Archives - Page 2
-
Quarterly Social & Religious Research Journal Noor-e-Marfat
Vol 11 No 1 (2020)اسلام کا یہ دعویٰ ہے کہ یہی وہ دین ہے جو انسانیت کی صراطِ مستقیم ہے۔ اس کے برعکس، لبرل ازم اور دینی پلورل ازم کسی ایک دین کے بحیثیت صراط مستقیم ہونے کے انکار کا نام ہے۔ مجلہ نور معرفت کے موجودہ شمارے کے پہلے دو مقالات اس فکری یلغار کے مقابلے میں دینِ مبین اسلام کا دفاع ہیں۔ پہلے مقالے میں "دینی پلورل ازم کے نظریہ کی حیثیت" کے عنوان سے اہل فکر ونظر کےلئے دَورِ حاضر کی الحادی سوچ کی بعض من گھڑت دلیلوں سے پردہ کشائی کرتے ہوئے حقیقت نمائی کی گئی ہے۔ اور دوسرے مقالے میں"قرآن میں احترامِ انسانیت کا تصوّر" کے عنوان کے تحت یہ ثابت کیا گیا ہے کہ خداوند تعالیٰ نے انسان کو جو عظیم مقام و منزلت عطا فرمایا ہےاس کا ہر صورت لحاظ رکھا جائے اور انسانیت کی تکریم یہ ہے کہ اسے اُس کے فطری اور حقیقی مقام سے نہ گرایا جائے۔ اس شمارے کا تیسرا مقالہ مغربی اور اسلامی نقطہ نظر سے اقتدارِ اعلٰی کا تصوّر اجاگر کرتا ہے اس مقالہ کے مطابق جب کسی ملک و ملّت کے سیاسی نظام کی اساس اسلام کے پیش کردہ اقتدارِ اعلیٰ کے تصوّر پر رکھی گئی تو معاشرے میں سماجی عدل و انصاف اور انسانی برابری و مساوات حاکم ہوئی۔اس شمارے کا چوتھا مقالہ علم کے باب میں بعض مروّجہ طبقہ بندیوں اور تقسیمات پر خطِ بطلان کھینچتا ہے۔ "علم کی ماہیت اور تقسیم بندی" کے عنوان سے تحریر شدہ اس مقالے میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ علم کی شرافت کا معیار، خود علم کا موضوع و مسائل نہیں، بلکہ اس کی غرض وغایت ہے ۔ مجلہ نور معرفت کا پانچواں مقالہ "برصغیر میں اصول حدیث کے چند اہم مصنفین وتصنیفات" کے موضوع پر ہے۔ یہ مقالہ حدیث پر کتاب شناسی کا ایک اہم ذریعہ ہے جو ایک عام قاری کو اصول حدیث پر برصغیر میں لکھی جانے والی کتب سے آشنا اور ایک محقق کو کم ترین وقت میں بہترین منابع تک رسائی کا موقعہ فراہم کرتا ہے۔ اس شمارے کا چھٹا مقالہ فلسفۂ اخلاق کی انتہائی اہم اور کلیدی بحث پر مشتمل ہے۔ اس مقالہ کے مطابق اخلاقیات منہائے دین، ایک ایسا فکری نظام ہے جس کے اجراء کی کوئی ضمانت فراہم نہیں کی جا سکتی۔ اس شمارے کا آخری مقالہ QISSAT AL-GHARANIQ IN GLIMPSES OF HISTORY کے عنوان سے مزین ہے۔ یہ مقالہ پیغمبر اسلامﷺ کے دامنِ نبوّت کو ہر قسم کی لغزش و خطا سے آلودہ ہونے سے منزّہ قرار دیتا ہے۔ہمیں امید ہے کہ یہ شمارہ دینی، سماجی اور انسانی علوم کے حلقوں میں ایک تحقیقی سند کی حیثیت حاصل کرےگا اور اس کے مطالعہ سے قارئین بھرپوراستفادہ کریں گے۔ ان شاء اللہ!
٭٭٭٭٭٭
-
Quarterly Social & Religious Research Journal Noor-e-Marfat
Vol 10 No 4 (2019)قرآن و سنّت،تکوین و تشریع یعنی خدا کی کائنات اور شریعت کا بیان ہیں۔ لیکن جہاں خدا کی کائنات میں ہر آن نئی نئی جہات سامنے آ رہی ہیں، وہاں انسانی افعال اور تعاملات میں بھی آئے دن پیچیدگیاں اور نئی جہات سامنے آ رہی ہیں جو سماج کی منیجمنٹ میں انسان سے ہر دن نئی قانون سازی کا مطالبہ کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی کسی ملک و ملت کی مقننہ کی چھٹی نہیں ہوتی۔ اسلام میں قرآن و سنّت کو قانونگذار کی حیثیت حاصل ہے۔ بنابریں، کائنات کے متنوع حقائق کو کشف کرنے اور انسانی سماج کے متنوع مسائل کا حل اور حکم بیان کرنے کےلئے قرآن و سنّت پر تحقیق کا کام کبھی مکمل نہیں ہوگا ۔اِس پسِ منظر میں ہر تحقیقی ادارے اور رسالے کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے محققین کے کام کو ترجیح دے جن کی تحریر میں قرآن و سنّت کی روشنی میں نئے حقائق اور جدید احکام بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہو۔ مجلہ نور معرفت کے زیر نظر شمارہ میں قرآن کریم کی ایک قدیم تفسیر "التبیان فی تفسیر القرآن" پر نئے انداز میں نگاہ ڈالی گئی ہے اور آنے والے مفسرین کےلیے ایک قدیم تفسیر کی دقیق تفسیری روش بیان کی گئی ہیں تاکہ وہ نئے دور کے تقاضے پورا کرتے وقت، قدماء کی روش کے برتر اصولوں کی پیروی کر سکیں۔ اسی طرح اس شمارہ میں ایک مستقل مقالہ کے ضمن میں"رسول اکرمﷺ کی سیاسی سیرت کے رہنما اصول" اجاگر کیے گئے ہیں۔
دین کی درست ترجمانی اور دینداری کی منطقی بنیادوں کو برہانی اسلوب میں بیان کرنا آج کے دَور کا دینداری کا سب سے بڑا تقاضا ہے۔ اِس موضوع پر بھی مجلہ نور معرفت کے اس شمارہ میں "دین و ایمان-عبادت و عرفان" کے عنوان سے ایک مقالہ شامل ہے جو اپنے قاری کو موضوع کی نئی اور عمیق جہات سے متعارف کرواتا ہے۔ اس شمارہ میں ایک مقالہ " امام شناسی، علم تاریخ اور علم کلام کی روشنی میں" کے عنوان سے بھی شامل ہے جو اپنے دامن میں امامت کےموضوع پر ابتکاری بحثیں سموئے ہوئے ہے۔ نور معرفت کے زیر نظر شمارے میں ایک اور مقالہ"انسانیت کا آخری مسیحا" کے عنوان سے شامل ہے۔ یہ مقالہ انسانیت کے مستقبل کے حوالے سے مختلف ادیان کی تشویش اور تدبیر کی ترجمانی کرتے ہوئے بنی نوعِ انسان کو ایک ایسے روشن مستقبل کی نوید سناتا ہے۔ اس شمارہ میں "مولانا رومؒ اور اسلام کی تعبیرِ نو" کے عنوان کے تحت ایک اور مقالہ میں امتّوں کے عروج و زوال میں اربابِ علم و دانش کے کردار کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ اس شمارے کا آخری مقالہ کتاب شناسی سے مربوط ہے جس میں " الفصول المهمة فى معرفة الائمة " جیسی ایک انتہائی اہم کتاب کا دقیق تعارف پیش کیا گیا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ سہ ماہی علمی، تحقیقی مجلہ نور معرفت کا یہ شمارہ، تکراری ادبیات کی جگہ ابتکاری لڑیچر کے باب میں ایک اہم اضافہ شمار ہو گا۔ان شاء اللہ!
٭٭٭٭٭٭ -
Quarterly Social & Religious Research Journal Noor-e-Marfat
Vol 10 No 3 (2019)تعلیم و تربیت کا انسان سازی کے ساتھ رابطہ تسلیم شدہ ہے ۔ مجلہ نور معرفت کے موجودہ شمارے میں تعلیم و تربیت کے موضوع سے مربوط چھپنے والے انتہائی عمیق اور فنی مقالات کی وہ تعداد ہے جسے دیکھ کر اس شمارے کو تعلیم و تربیت کا خصوصی شمارہ کہنا بے جا نہ ہو گا۔ اس شمارہ میں "تربیت، لغوی مفہوم اور خصوصیات" کے عنوان سے ایک وزنی مقالہ شامل ہے۔ دوسرا مقالہ "معاشرتی ترقی میں ادب کا کردار" کے عنوان سے شامل ہے جو بذات خود لسانیات کا موضوع ہے جو اپنی جگہ تعلیم و تربیت کا ایک اہم شعبہ ہے۔ تعلیم و تربیت کے موضوع سے مربوط تیسرے مقالے میں "اقوام متحدہ کا 2030 ترقیاتی ایجنڈا، ایک تنقیدی جائزہ" کے عنوان سے پاکستان میں شعبۂ تعلیم و تربیت کے ارباب قدرت و اختیار کو "ہوشیار باش!" کہہ کر راہزنوں سے ہوشیار رہنے کی چارہ جوئی کی گئی ہے۔موضوع سے مربوط چوتھے مقالے میں "تعلیم و تربیت کے بنیادی اصول" کے عنوان سے تعلیم و تربیت کی اسلامی Foundations کو اجاگرکیا گیا ہے۔اسی موضوع سے مربوط پانچویں مقالے میں "تعلیم و تربیت میں جسمانی سزا" کے عنوان کے تحت ایک اہم مسئلہ پر قدرے مختلف انداز سے رائے زنی کی گئی ہے۔
ان مقالات کے علاوہ، اس شمارہ کے دامن میں ایک تحقیقی مقالہ "الہی صفات کی معنی شناسی" کے عنوان سے مزین ہے جس میں علم الکلام کا ایک اہم موضوع زیربحث لایا گیا ہے۔ اس شمارے میں "انسان، معیشت اور ماحولیات" کے عنوان سے ایک اور مقالہ جہاں کتاب شناسی کے باب میں ایک منفرد اندازِ بیان پر مشتمل ہے، وہاں انسان کے خلافتِ الہٰیہ کے مقام پر فائز ہونےکی حدود و قیود اور شرائط کی ترجمانی کے علاوہ معیشت اور ماحولیات کے حوالے سے قاری کو اپنا اقتصادی قرض اتارنے اور اپنا ماحولیاتی فرض ادا کرنے کےلئے تگ و دَو پر اکساتا ہے۔ نور معرفت کے زیر نظر شمارے کا ایک اور مقالہ "سائنس اور دین کے درمیان رابطہ" کے عنوان کے تحت اس سوال کا جواب فراہم کرتا ہے کہ سائنس اور دین کے درمیان پائے جانے والے رابطہ کی ماہیت کیا ہے۔ اس شمارے میں "تکریم فاطمہ سلام اللہ علیہا" کے عنوان سے ایک اور مقالہ خواتینِ جنّت کی سیدہ حضرت فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کے فضائل و کرامات پر مشتمل ہے جو رسولِ خداﷺ کی امّت کو اجرِ رسالت کی ادائیگی کی تاکید کرنے کے ساتھ ساتھ اولادِ رسولﷺ کی تکریم و تعظیم کے لزوم پر ایک جاندار تحریر ہے۔ ہمیں امید ہے کہ سہ ماہی علمی، تحقیقی مجلہ نور معرفت کا یہ شمارے، تخلیقی تصنیفات کے باب میں ایک اہم اضافہ اور قارئین کرام کی علمی تشنگی دور کرنے کےلئے مئے ساقی شمار ہو گا۔ان شاء اللہ!
٭٭٭٭٭