• Quarterly Social & Religious Research Journal Noor-e-Marfat
    Vol 12 No 3 (2021)

    مجلہ نور معرفت کے پیش نظر  شمارے کا پہلا مقالہ "تفسیر ِقرآن کے لئے درکار علوم اور مفسِّر کی شرائط " کے عنوان سے اِس سوال کا جواب ڈھونڈتا ہے کہ ایک مفسّر کےلئے کن علوم و فنون کا ماہر  اور کن خصوصیات وفضائل کا حامل ہونا ضروری ہے؟  اس شمارے کا دوسرا مقالہ حدیثِ معصومین علیہم السلام  کی صحت و اعتبار کا معیار طے کرنے کے حوالے سےسن  150 ہجری سے 250ہجری کے درمیان اصحاب ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی اُس علمی کاوش کا تحلیلی جائزہ پیش کرتا ہے جس میں انہوں نے ائمہ کی طرف منسوب احادیث کے نقد کے معیار قائم کیے۔ تیسرا مقالہ ایک متفاوت دینی سیاسی نظام یعنی "ولایتِ فقیہ" سے متعارف کرواتا اور اس کا "تھیوکریسی" سے موازنہ پیش کرتا ہے۔ چوتھے مقالے میں اسلام اور مروجہ پاکستانی قوانین کے تناظر میں معاشرتی سزاوں کی قانونی حیثیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔پانچویں مقالے میں قرآن و حدیث کی روشنی میں انسان کی نفسیاتی مشکلات کے اسباب وعوامل کا جائزہ لیتے ہوئے اِن مشکلات اور بیماریوں کے سدّباب کے حوالے سے دینی تعلیمات کو اجاگر کیا ہے۔ چھٹے مقالہ میں حافظؔ اور اقبالؔ کے مشترکات، اقبالؔ پر حافظؔ کی تاثیر اور اقبالؔ کے مختصات بیان کیے گئے ہیں۔ ساتویں مقالے میں سید وحید الحسن ہاشمی کی نعت گوئی کا اسلوب متعارف کروایا گیا ہے۔ اس شمارے کے آٹھویں مقالے میں " نہج البلاغہ" کے اردو  ترجمہ بقلم علامہ مفتی جعفر حسینؒ   کی خوبیوں اور موجودہ   دور  کے قاری کو اس میں درپیش دشواریوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اور نویں مقالے میں آپ علیہ السلام کے فرمودات کی روشنی میں اقتصادیات پر تہذیبی اقدار اور روّیوں کی تاثیر کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ علمی، تحقیقی سہ ماہی  نور معرفت کا یہ شمارہ بھی سابقہ شماروں کی طرح عالمِ اسلام کی دینی، سماجی مشکلات کے حلّ کے عملی اقدامات تجویز کرتے ہوئے علمی تحقیقی حلقوں میں پذیرائی پائے گا۔ ان شاء اللہ!

  • Quarterly Social & Religious Research Journal Noor-e-Marfat
    Vol 12 No 2 (2021)

    توحید، دین اسلام کی اساس ہے۔ توحید کی معرفت کی کوئی انتہاء نہیں۔اس موضوع پر مطالعہ کبھی مکمل نہیں ہو سکتا۔ لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ہرموضوع سے پہلے، توحید ہی کے موضوع میں اپنے آپ کو فارغ التحصیل سمجھنے لگتے ہیں اور بسا اوقات اپنے اِس من گھڑت عقیدہ توحید کو بنیاد بنا کر دوسروں پر شرک کے فتوے بھی لگاتے ہیں۔ نیز ہمارے اندر دیگر ادیان و مذاہب پر غلبہ کی فکر بھی حاکم رہتی ہے لیکن اس مہم میں ہم دعوت و تبلیغ کے اساسی اصولوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ایسے میں حضور اکرمﷺ،  آپ کے پاک اصحاب رضوان اللہ علیہم اور اہل بیت اطہار علیہم السلام  ہی وہ سرچشمے ہیں جو ہمیں توحید کی خالص تعلیمات سے سیراب کرتے اور یہ درس دیتے  ہیں کہ ہم دیگر ادیان و مذاہب کے پیروکاروں کے ساتھ کن اصولوں کی روشنی میں مناظرات انجام دیں۔ اس حوالے سے امام رضا علیہ السلام کی تعلیمات  راہگشا ہیں۔ سہ ماہی نور معرفت کے موجودہ شمارے میں آپ کی تعلیمات سے استخراج شدہ دو مقالات "اسلام کی توحیدی تعلیمات" اور " ادیان و مذاہب کے پیروکاروں کے ساتھ مکالمہ  و مناظرہ کے اصول" شاملِ اشاعت ہیں جو سالکین سبیل توحید کےلئے معرفت  و عرفان کے جام ثابت ہوں گے۔اس شمارے میں "حضرت علی علیہ السلام کی انتظامی پالیسیوں اور اصولوں پر ایک نظر" کے عنوان سے جو مقالہ شاملِ اشاعت ہے وہ اسلامی مملکت داری کی عمدہ پالیسیاں اور اصول بیان کرتا ہے۔

    اسی طرح موجودہ شمارے کے چوتھے مقالے میں " قرآنی مثالی معاشرے کے تحقق میں درپیش فکری و اعتقادی چیلنجز اور مشکلات کا تحقیقی جائزہ" پیش کیا گیا ہے۔ یہ مقالہ ہمیں اُن فکری، عقیدتی انحرافات سے روشناس کرواتا ہے جو ایک قرآنی مثالی معاشرے کے قیام کی راہ میں حائل ہیں۔ اس شمارے کے پانچویں اور چھٹے مقالوں میں " برصغیر میں اسلام کے ابتدائی آثار" اور " غزوۂ بنو قریظہ  کا تاریخی وتحلیلی جائزہ" کے عنوانات کے تحت دراصل، اسلام کی روح پرور اور مسالمت آمیز  تعلیمات کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ مستشرقین اور اسلام دشمنوں کی اِس الزام تراشی کا جواب دیا گیا ہےکہ اسلام خشونت پسندی، دہشت گردی اور تلوار کا دین ہے۔ ساتویں اور آٹھویں مقالات میں حالیؔ اور بابا بلھےؔ شاہ کے کلام کی روشنی میں سماجی اصلاح اور انسان سازی کے پہلو کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اس شمارے کا نواں مقالہ "تحديات الدعوية فى زمن النبوة فى العهد المكي، صورها فى العصر الحاضر ومعالجتها فى ضوء المنهج النبوي"  کے عنوان سے مزیّن ہے۔ یقینا یہ مقالہ  اربابِ دعوت و ارشاد  کے سامنے حضور اکرمﷺ کی سیرت و کردار سے ایسے نمونے پیش کرتا ہے جن کی پیروی میں وہ اہلِ دنیا تک اسلام کا پیغام حکیمانہ طریقے سے پہنچا سکتے ہیں۔اس شمارے کا دسواں مقالہ The Relationship of Social Behavior with Suicidal Ideation  کے عنوان سے مزین ہے جس میں خود کشی اور خود کش حملات کے نفسیاتی اسباب تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یقینا یہ مقالہ دہشت گردی کے سدّباب کی راہ میں پہلا قدم ہے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں امن و امان قائم کرنے والے اداروں اور شخصیات کو کلیدی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح  اِس ملک کے اقتصادی مسائل کے حل کے حوالے سے جو کہ بذات خود بے امنی اور دہشت گردی کا ایک عمدہ سبب ہیں، سہ ماہی نور معرفت کے موجودہ شمارے کا گیارہواں مقالہ Values and Well-being in Pakistanکے عنوان سے  شامل اشاعت ہے۔ یہ مقالہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عوام کی اقتصادی فلاح و بہبود  میں الٰہی اقتصادیات کی تاثیر کے بارے میں بحث کرتا اور عوامی فلاح و بہبود کے الٰہی معیار متعارف کرواتا ہے۔  ہمیں امید ہے کہ علمی، تحقیقی سہ ماہی مجلہ نور معرفت کا یہ شمارے علمی حلقوں میں بہترین پذیرائی حاصل کرے گا اور ہماری دینی، سماجی مشکلات کے حلّ میں عملی اقدامات تجویز کرے گا۔ ان شاء اللہ!

     

  • Quarterly Social & Religious Research Journal Noor-e-Marfat
    Vol 12 No 1 (2021)

    مجلہ نور معرفت کا 51واں  شمارہ اداریے کے علاوہ 9 مقالات پر مشتمل ہے۔ اس شمارے کا  پہلا مقالہ "اہل تشیّع کے عمدہ لسانیاتی اصولِ تفسیر" کے عنوان سے تفسیرِ قرآن کے ایسے اصولوں کا بیانگر ہے جن کی روشنی میں وہ قرآن کریم کی تفسیر کرتے ہیں۔ یہ مقالہ درحقیقت قرآن فہمی کی Methodology میں تکامل اور پیش رفت کا موجب ہے۔ " انسان کی اخلاقی تربیّت  میں معرفت اوررجحان کا تعامل " کے عنوان سے اس شمارے کا دوسرا مقالہ اس بحث کا حامل ہے کہ آیا انسان کی اخلاقی تربیت میں اس کے Cognitive Dimension پر توجہ کافی ہے یا اس کے ہمراہ انسانی تمایلات کو ایک خاص سمت و سُو پر لگانا بھی ضروری ہے؟ اس شمارے کا تیسرا مقالہ "صوفیاء کی شطحات: مطالعاتی جائزہ" کے عنوان کے تحت، شطحات کے صدور کے پسِ منظر کا جائزہ لینے کے علاوہ، ان کی شرعی حیثیت کا تعین کرتا ہے۔" معاشرتی ارتقائی سفر میں تعلیم اور خواتین کا کردار " کے عنوان سے مزیّن، موجودہ شمارے کا چوتھا مقالہ انسانی سماج کے ارتقائی سفر  کے عوامل کو اجاگر کرتا ہے۔"وادی السلام کا وجود اور مصداق  " کے عنوان کے تحت اس شمارے کا پانچواں مقالہ دراصل، عالم اسلام کے ایک اہم ورثے کا تعارف پیش کرتا ہے۔  "فیض احمد فیضؔ اور مہدی جواہریؔ: مشترکہ شعری جہات" کے عنوان سے اس شمارے کا چھٹا مقالہ دو ایسے شہرہ آفاق شعراء کے افکار کا عکاس ہے جنہوں نے اپنے کلام میں انسانیّت کا مرثیہ لکھا ہے۔ موجودہ شمارے کا ساتواں مقالہ "عاشورا نویسی کے جدید رجحانات اور اس کے عوامل (1960  سے2010تک )"  کے عنوان کے تحت سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی عظیم قربانی کی تاریخ پر  لکھے جانے والے جدید تاریخی آثار کا تعارف پیش کرتا ہے۔اس شمارے کا آٹھواں  مقالہ "الحکم واﻷمثال ﻟﻺمام علي- علیہ السلام- وﺃثرها في الحیاۃ اﻹنسانية" کے عنوان کے تحت  حضرت امام علی علیہ السلام کے عظیم خطبات اور فرمودات سے جواہر پاروں کا ایسا انتخاب ہے جو انسانی زندگی کی جہت کے تعین میں انتہائی موٴثر ہیں۔   The Effect of Wisdom on the Academic Performance of  College Students  کے عنوان کے تحت اس شمارے کے آخری مقالے میں یہ دیکھا گیا ہے کہ آیا طلباء اور طالبات میں عقل ودانشمندی کے اعتبار سے کوئی فرق پایا جاتا ہے یا نہیں؟ ہمیں امید ہے کہ مجلہ نور معرفت کے 51ویں شمارے کے یہ متنوّع مقالات ہمارے قارئین کےلئے علمی اور عملی زندگی میں انتہائی مفید ثابت ہوں گے۔ ان شاء اللہ!

  • Quarterly Social & Religious Research Journal NOOR-E-MARFAT
    Vol 11 No 4 (2020)

    عصرِ خاتمیّت اور غیبت   میں اسلامی فقہ و فقاہت کی داستان ، قرآن و سنّت میں اجتہاد اور جدّوجہد کی داستان ہے۔ مجلہ نور معرفت کے پچاسویں شمارے میں جہاں اسلام میں اجتہاد کے  ارتقائی مراحل  اور قرآن و سنّت سے اسلامی تعلیمات کے اخذ و استخراج کی Methodology پر تفصیلی بحث کی گئی ہے، وہاں  اسی اجتہادی روش  کی آئینہ دار ایک اہم اصولی بھی پیش کی گئی ہے جس میں یہ دیکھا گیا ہے کہ اسلامی متون میں وارد شدہ امر ونہی کس معنی پر دلالت کرتی ہے؟ اسی طرح اسلامی حکومت کی تشکیل جیسے اہم مسئلہ پر دو معتبر شخصیات کی اجتہادی  رہیافت Approach پر ایک مقالہ شامل ہے جو روح اللہ امام  خمینیؒ اور علامہ ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے نظریات کی روشنی میں اسلامی حکومت کی تشکیل کی فکری بنیادوں کو اجاگر کرتا ہے۔اس  شمارے کے چوتھے مقالے میں برِّصغیر پاک وہندمیں اشاعتِ اسلام کے حوالے سے صوفیوں کی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے صوفیانہ منش کو دَورِ حاضر کی مذہبی تنگ نظری اور نسلی و لسانی منافرت کے سدّباب کے طور پر تجویز کیا گیا ہے۔ اس شمارے کا پانچواں مقالہ عالمِ اسلام کی تین مقتدر شخصیات، امام غزالی، خواجہ نصیر الدین طوسی اور علامہ محمد اقبال  کے نظریات کی روشنی میں انسانی کردار کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالتا اور کردار سازی  کے اسباب و عناصر بیان  کرتا ہے۔اس شمارے کا چھٹا مقالہ انسان کے غموں، بیماریوں، مشکلات،زمینی وآسمانی آفتوں اور بالخصوص کورونا وائرس جیسی عظیم وباء میں مبتلا ہو جانے کی صورت میں مایوس نہ ہونے کی عملی راہیں پیش کرتا ہے۔ ساتواں مقالہ اردو رسم الخط کے آغاز و ارتقاء کی داستان پر مبنی ہے جو ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ لسانیات کا سیاست کے ساتھ گہرا ربط ہے۔ لہذا آزاد قوموں کو ہمیشہ اپنی زبان و ادبیات اور رسم الخط کو خاص اہمیت دینی چاہیے۔ اس شمارے کا آخری مقالہ ان سوالات کا جواب فراہم کرتا ہے کہ آیا آئیڈیالوجی اور قومی مفادات یکجا ہو سکتے ہیں یا نہیں؟ اگر ایسا ممکن ہے تو آیا اسلامی جمہوریہ ایران کا سیاسی نظام اپنے اندر آئیڈیالوجی اور قومی مفادات کو یکجا رکھے ہوئے ہے یا نہیں؟ ہمیں امید ہے کہ مجلہ نور معرفت کے پیش نظر شمارہ میں مقالات کا یہ تنوّع، اس شمارے کے قارئین کےلئے انتہائی معلومات افزا ثابت ہو گا۔ان شاء اللہ!

  • Quarterly Social & Religious Research Journal Noor-e-Marfat
    Vol 11 No 3 (2020)

    قرآن کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ کا زندہ و جاودان معجزہ ہے۔ اگر مسلمان دانشور اعجاز قرآن کی چند تکراری جہات کے بیان کی بجائے لسانیات، ادبیات، تاریخ، سیاسیات، سماجیات، سائنس اور فلسفے جیسے شعبوں میں قرآنی اعجاز کی زندہ اور عصری جہات، مصادیق اور نمونے اہل دنیا کے سامنے پیش کر سکیں تو یقینا سلیم الفطرت انسانوں کی ایک بہت بڑی تعداد قرآن کی وحیانی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے اہلِ اسلام کی صفوں میں شامل ہو جائے گی۔ اسی ضرورت کے پیش نظر مجلہ نور معرفت کے موجودہ شمارے کا پہلا مقالہ "اعجاز قرآن کی جہات" کے عنوان سے معنون ہے۔ اس شمارے کا دوسرا مقالہ ایک اسلامی-کلامی بحث کی کفالت کرتا ہے۔ اگر "عقیدہٴ رجعت، قرآن، حدیث اور عقل کی روشنی میں" کے عنوان سے مزّین، یہ مقالہ اپنے دعویٰ کی اثبات میں کامیاب قرار دے دیا جائے تو اس کا IMPACT یہ ہے کہ یہ اُن قرآنی وعدوں کی صداقت کی دلیل بن جاتا ہے جو خداوند تعالیٰ نے اپنی لاریب کتاب میں اپنے خالص بندوں سے کر رکھے ہیں۔ تیسرا اور چوتھا مقالہ بالترتیب "سیرت النبیﷺ اور انسانی حقوق" اور "تشکیل معاشرہ کی اسلامی بنیادیں" کے عنوان سے مزیّن ہیں۔ ان مقالات کا مدعیٰ یہ ہے کہ سیرتُ النبیﷺ اور اسلامی تعلیمات ایسے معاشرہ کی تشکیل بنیادیں فراہم کرتی ہیں۔ اس شمارے کا پانچواں مقالہ  ایک مترقی انسانی سماج کی عالمی اساس یعنی عدل و انصاف کے قیام میں عدالتی نظام میں "دعویٰ (CLAIM) سے مربوط  شرعی اور وضعی قوانین کا تقابلی جائزہ " پیش کرتا ہے۔ یہ مقالہ اس مقولہ میں مملکت خدادادِ پاکستان میں وضعی قوانین میں احتمالی جھول کو برملا اور برطرف کرنے کی غرض وغایت سے لکھا گیا ہے۔ مجلہ نور معرفت کے اس تازہ شمارے کا چھٹا مقالہ " موقّت شادی: صحیحین اور فریقین کی نظر میں" کے عنوان سے مزین  ہے جو اہل فقاہت و اجتہاد کی خاص توجہ کا طالب اور معاشرے سے جنسی بے راہ روی کی روک تھام کی عملی شرعی راہیں تجویز کرتا ہے۔

    ساتواں مقالہ اپنے ضمن میں " اسلامی تعلیم و تربیت کی روشیں" بیان کرنے کا عہدیدار ہے۔ اس مقالے کا ادّعا یہ ہے کہ اسلام میں تعلیم و تربیت کی متعدد اور متنوع روشیں موجود ہیں جو متعدد اور متنوع CONDITIONS میں قابل اجراء ہیں۔ ان روشوں کو اپنا کر تعلیم و تربیت کا کام انتہائی موثر طریقے سے انجام دیا جا سکتا ہے۔ " دہشت گردی، اسلام اور اردوافسانہ " کے عنوان پر مجلہ نور معرفت کے اس شمارے کا آٹھواں مقالہ افسانوی ادبیات کے لب ولہجہ دنیا میں دہشت گردی کے واقعات کے پسِ پردہ عوامل کی تلاش کے باب میں ایک جاندار کاوش ہے۔  RELIGIOUS DISCURSIVE PRACTICES IN THE ESL UNDERGRADUATE CLASSROOM کے عنوان سے اس شمارے کے آخری مقالے کا تعلق بھی EDUCATION سے ہے۔ یہ مقالہ جس میں اسلام آباد کی ان تمام جامعات کو بطور سروے سائیٹ منتخب کیا گیا ہے جہاں انڈر گریجویٹ سطح پر  انگریزی کا چار سالہ نصاب پڑھایا جاتا ہے، اس پیغام کا حامل ہے کہ اکثر ESLکلاس رومز میں اساتذہ کی طرف سے دینی اور مسلکی آئیڈیالوجی کی ترویج جاری رہتی ہے جو کہ مقالے کے مطابق بہترین تعلیمی نتائج کے حصول کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ لہذا تعلیم کے مقتدر اداروں کےلئے ضروری ہے کہ وہ اس سلسلے میں اساتذہ کو مناسب ہدایات اور رہنمائی فراہم کریں۔ہمیں امید ہے کہ ان متنوع مقالات کی اشاعت، مجلہ نور معرفت کے زیرنظر شمارے کو قارئین کےلئے انتہائی مفید شمارے کے طور پر پیش کرے گی۔ ان شاء اللہ!

    ٭٭٭٭٭

for more issues please click on this link