• Quarterly Social & Religious Research Journal Noor-e-Marfat
    Vol 12 No 2 (2021)

    توحید، دین اسلام کی اساس ہے۔ توحید کی معرفت کی کوئی انتہاء نہیں۔اس موضوع پر مطالعہ کبھی مکمل نہیں ہو سکتا۔ لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ہرموضوع سے پہلے، توحید ہی کے موضوع میں اپنے آپ کو فارغ التحصیل سمجھنے لگتے ہیں اور بسا اوقات اپنے اِس من گھڑت عقیدہ توحید کو بنیاد بنا کر دوسروں پر شرک کے فتوے بھی لگاتے ہیں۔ نیز ہمارے اندر دیگر ادیان و مذاہب پر غلبہ کی فکر بھی حاکم رہتی ہے لیکن اس مہم میں ہم دعوت و تبلیغ کے اساسی اصولوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ایسے میں حضور اکرمﷺ،  آپ کے پاک اصحاب رضوان اللہ علیہم اور اہل بیت اطہار علیہم السلام  ہی وہ سرچشمے ہیں جو ہمیں توحید کی خالص تعلیمات سے سیراب کرتے اور یہ درس دیتے  ہیں کہ ہم دیگر ادیان و مذاہب کے پیروکاروں کے ساتھ کن اصولوں کی روشنی میں مناظرات انجام دیں۔ اس حوالے سے امام رضا علیہ السلام کی تعلیمات  راہگشا ہیں۔ سہ ماہی نور معرفت کے موجودہ شمارے میں آپ کی تعلیمات سے استخراج شدہ دو مقالات "اسلام کی توحیدی تعلیمات" اور " ادیان و مذاہب کے پیروکاروں کے ساتھ مکالمہ  و مناظرہ کے اصول" شاملِ اشاعت ہیں جو سالکین سبیل توحید کےلئے معرفت  و عرفان کے جام ثابت ہوں گے۔اس شمارے میں "حضرت علی علیہ السلام کی انتظامی پالیسیوں اور اصولوں پر ایک نظر" کے عنوان سے جو مقالہ شاملِ اشاعت ہے وہ اسلامی مملکت داری کی عمدہ پالیسیاں اور اصول بیان کرتا ہے۔

    اسی طرح موجودہ شمارے کے چوتھے مقالے میں " قرآنی مثالی معاشرے کے تحقق میں درپیش فکری و اعتقادی چیلنجز اور مشکلات کا تحقیقی جائزہ" پیش کیا گیا ہے۔ یہ مقالہ ہمیں اُن فکری، عقیدتی انحرافات سے روشناس کرواتا ہے جو ایک قرآنی مثالی معاشرے کے قیام کی راہ میں حائل ہیں۔ اس شمارے کے پانچویں اور چھٹے مقالوں میں " برصغیر میں اسلام کے ابتدائی آثار" اور " غزوۂ بنو قریظہ  کا تاریخی وتحلیلی جائزہ" کے عنوانات کے تحت دراصل، اسلام کی روح پرور اور مسالمت آمیز  تعلیمات کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ مستشرقین اور اسلام دشمنوں کی اِس الزام تراشی کا جواب دیا گیا ہےکہ اسلام خشونت پسندی، دہشت گردی اور تلوار کا دین ہے۔ ساتویں اور آٹھویں مقالات میں حالیؔ اور بابا بلھےؔ شاہ کے کلام کی روشنی میں سماجی اصلاح اور انسان سازی کے پہلو کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اس شمارے کا نواں مقالہ "تحديات الدعوية فى زمن النبوة فى العهد المكي، صورها فى العصر الحاضر ومعالجتها فى ضوء المنهج النبوي"  کے عنوان سے مزیّن ہے۔ یقینا یہ مقالہ  اربابِ دعوت و ارشاد  کے سامنے حضور اکرمﷺ کی سیرت و کردار سے ایسے نمونے پیش کرتا ہے جن کی پیروی میں وہ اہلِ دنیا تک اسلام کا پیغام حکیمانہ طریقے سے پہنچا سکتے ہیں۔اس شمارے کا دسواں مقالہ The Relationship of Social Behavior with Suicidal Ideation  کے عنوان سے مزین ہے جس میں خود کشی اور خود کش حملات کے نفسیاتی اسباب تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یقینا یہ مقالہ دہشت گردی کے سدّباب کی راہ میں پہلا قدم ہے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں امن و امان قائم کرنے والے اداروں اور شخصیات کو کلیدی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح  اِس ملک کے اقتصادی مسائل کے حل کے حوالے سے جو کہ بذات خود بے امنی اور دہشت گردی کا ایک عمدہ سبب ہیں، سہ ماہی نور معرفت کے موجودہ شمارے کا گیارہواں مقالہ Values and Well-being in Pakistanکے عنوان سے  شامل اشاعت ہے۔ یہ مقالہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عوام کی اقتصادی فلاح و بہبود  میں الٰہی اقتصادیات کی تاثیر کے بارے میں بحث کرتا اور عوامی فلاح و بہبود کے الٰہی معیار متعارف کرواتا ہے۔  ہمیں امید ہے کہ علمی، تحقیقی سہ ماہی مجلہ نور معرفت کا یہ شمارے علمی حلقوں میں بہترین پذیرائی حاصل کرے گا اور ہماری دینی، سماجی مشکلات کے حلّ میں عملی اقدامات تجویز کرے گا۔ ان شاء اللہ!

     

  • Quarterly Social & Religious Research Journal Noor-e-Marfat
    Vol 12 No 1 (2021)

    مجلہ نور معرفت کا 51واں  شمارہ اداریے کے علاوہ 9 مقالات پر مشتمل ہے۔ اس شمارے کا  پہلا مقالہ "اہل تشیّع کے عمدہ لسانیاتی اصولِ تفسیر" کے عنوان سے تفسیرِ قرآن کے ایسے اصولوں کا بیانگر ہے جن کی روشنی میں وہ قرآن کریم کی تفسیر کرتے ہیں۔ یہ مقالہ درحقیقت قرآن فہمی کی Methodology میں تکامل اور پیش رفت کا موجب ہے۔ " انسان کی اخلاقی تربیّت  میں معرفت اوررجحان کا تعامل " کے عنوان سے اس شمارے کا دوسرا مقالہ اس بحث کا حامل ہے کہ آیا انسان کی اخلاقی تربیت میں اس کے Cognitive Dimension پر توجہ کافی ہے یا اس کے ہمراہ انسانی تمایلات کو ایک خاص سمت و سُو پر لگانا بھی ضروری ہے؟ اس شمارے کا تیسرا مقالہ "صوفیاء کی شطحات: مطالعاتی جائزہ" کے عنوان کے تحت، شطحات کے صدور کے پسِ منظر کا جائزہ لینے کے علاوہ، ان کی شرعی حیثیت کا تعین کرتا ہے۔" معاشرتی ارتقائی سفر میں تعلیم اور خواتین کا کردار " کے عنوان سے مزیّن، موجودہ شمارے کا چوتھا مقالہ انسانی سماج کے ارتقائی سفر  کے عوامل کو اجاگر کرتا ہے۔"وادی السلام کا وجود اور مصداق  " کے عنوان کے تحت اس شمارے کا پانچواں مقالہ دراصل، عالم اسلام کے ایک اہم ورثے کا تعارف پیش کرتا ہے۔  "فیض احمد فیضؔ اور مہدی جواہریؔ: مشترکہ شعری جہات" کے عنوان سے اس شمارے کا چھٹا مقالہ دو ایسے شہرہ آفاق شعراء کے افکار کا عکاس ہے جنہوں نے اپنے کلام میں انسانیّت کا مرثیہ لکھا ہے۔ موجودہ شمارے کا ساتواں مقالہ "عاشورا نویسی کے جدید رجحانات اور اس کے عوامل (1960  سے2010تک )"  کے عنوان کے تحت سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی عظیم قربانی کی تاریخ پر  لکھے جانے والے جدید تاریخی آثار کا تعارف پیش کرتا ہے۔اس شمارے کا آٹھواں  مقالہ "الحکم واﻷمثال ﻟﻺمام علي- علیہ السلام- وﺃثرها في الحیاۃ اﻹنسانية" کے عنوان کے تحت  حضرت امام علی علیہ السلام کے عظیم خطبات اور فرمودات سے جواہر پاروں کا ایسا انتخاب ہے جو انسانی زندگی کی جہت کے تعین میں انتہائی موٴثر ہیں۔   The Effect of Wisdom on the Academic Performance of  College Students  کے عنوان کے تحت اس شمارے کے آخری مقالے میں یہ دیکھا گیا ہے کہ آیا طلباء اور طالبات میں عقل ودانشمندی کے اعتبار سے کوئی فرق پایا جاتا ہے یا نہیں؟ ہمیں امید ہے کہ مجلہ نور معرفت کے 51ویں شمارے کے یہ متنوّع مقالات ہمارے قارئین کےلئے علمی اور عملی زندگی میں انتہائی مفید ثابت ہوں گے۔ ان شاء اللہ!

  • Quarterly Social & Religious Research Journal NOOR-E-MARFAT
    Vol 11 No 4 (2020)

    عصرِ خاتمیّت اور غیبت   میں اسلامی فقہ و فقاہت کی داستان ، قرآن و سنّت میں اجتہاد اور جدّوجہد کی داستان ہے۔ مجلہ نور معرفت کے پچاسویں شمارے میں جہاں اسلام میں اجتہاد کے  ارتقائی مراحل  اور قرآن و سنّت سے اسلامی تعلیمات کے اخذ و استخراج کی Methodology پر تفصیلی بحث کی گئی ہے، وہاں  اسی اجتہادی روش  کی آئینہ دار ایک اہم اصولی بھی پیش کی گئی ہے جس میں یہ دیکھا گیا ہے کہ اسلامی متون میں وارد شدہ امر ونہی کس معنی پر دلالت کرتی ہے؟ اسی طرح اسلامی حکومت کی تشکیل جیسے اہم مسئلہ پر دو معتبر شخصیات کی اجتہادی  رہیافت Approach پر ایک مقالہ شامل ہے جو روح اللہ امام  خمینیؒ اور علامہ ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے نظریات کی روشنی میں اسلامی حکومت کی تشکیل کی فکری بنیادوں کو اجاگر کرتا ہے۔اس  شمارے کے چوتھے مقالے میں برِّصغیر پاک وہندمیں اشاعتِ اسلام کے حوالے سے صوفیوں کی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے صوفیانہ منش کو دَورِ حاضر کی مذہبی تنگ نظری اور نسلی و لسانی منافرت کے سدّباب کے طور پر تجویز کیا گیا ہے۔ اس شمارے کا پانچواں مقالہ عالمِ اسلام کی تین مقتدر شخصیات، امام غزالی، خواجہ نصیر الدین طوسی اور علامہ محمد اقبال  کے نظریات کی روشنی میں انسانی کردار کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالتا اور کردار سازی  کے اسباب و عناصر بیان  کرتا ہے۔اس شمارے کا چھٹا مقالہ انسان کے غموں، بیماریوں، مشکلات،زمینی وآسمانی آفتوں اور بالخصوص کورونا وائرس جیسی عظیم وباء میں مبتلا ہو جانے کی صورت میں مایوس نہ ہونے کی عملی راہیں پیش کرتا ہے۔ ساتواں مقالہ اردو رسم الخط کے آغاز و ارتقاء کی داستان پر مبنی ہے جو ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ لسانیات کا سیاست کے ساتھ گہرا ربط ہے۔ لہذا آزاد قوموں کو ہمیشہ اپنی زبان و ادبیات اور رسم الخط کو خاص اہمیت دینی چاہیے۔ اس شمارے کا آخری مقالہ ان سوالات کا جواب فراہم کرتا ہے کہ آیا آئیڈیالوجی اور قومی مفادات یکجا ہو سکتے ہیں یا نہیں؟ اگر ایسا ممکن ہے تو آیا اسلامی جمہوریہ ایران کا سیاسی نظام اپنے اندر آئیڈیالوجی اور قومی مفادات کو یکجا رکھے ہوئے ہے یا نہیں؟ ہمیں امید ہے کہ مجلہ نور معرفت کے پیش نظر شمارہ میں مقالات کا یہ تنوّع، اس شمارے کے قارئین کےلئے انتہائی معلومات افزا ثابت ہو گا۔ان شاء اللہ!

  • Quarterly Social & Religious Research Journal Noor-e-Marfat
    Vol 11 No 3 (2020)

    قرآن کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ کا زندہ و جاودان معجزہ ہے۔ اگر مسلمان دانشور اعجاز قرآن کی چند تکراری جہات کے بیان کی بجائے لسانیات، ادبیات، تاریخ، سیاسیات، سماجیات، سائنس اور فلسفے جیسے شعبوں میں قرآنی اعجاز کی زندہ اور عصری جہات، مصادیق اور نمونے اہل دنیا کے سامنے پیش کر سکیں تو یقینا سلیم الفطرت انسانوں کی ایک بہت بڑی تعداد قرآن کی وحیانی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے اہلِ اسلام کی صفوں میں شامل ہو جائے گی۔ اسی ضرورت کے پیش نظر مجلہ نور معرفت کے موجودہ شمارے کا پہلا مقالہ "اعجاز قرآن کی جہات" کے عنوان سے معنون ہے۔ اس شمارے کا دوسرا مقالہ ایک اسلامی-کلامی بحث کی کفالت کرتا ہے۔ اگر "عقیدہٴ رجعت، قرآن، حدیث اور عقل کی روشنی میں" کے عنوان سے مزّین، یہ مقالہ اپنے دعویٰ کی اثبات میں کامیاب قرار دے دیا جائے تو اس کا IMPACT یہ ہے کہ یہ اُن قرآنی وعدوں کی صداقت کی دلیل بن جاتا ہے جو خداوند تعالیٰ نے اپنی لاریب کتاب میں اپنے خالص بندوں سے کر رکھے ہیں۔ تیسرا اور چوتھا مقالہ بالترتیب "سیرت النبیﷺ اور انسانی حقوق" اور "تشکیل معاشرہ کی اسلامی بنیادیں" کے عنوان سے مزیّن ہیں۔ ان مقالات کا مدعیٰ یہ ہے کہ سیرتُ النبیﷺ اور اسلامی تعلیمات ایسے معاشرہ کی تشکیل بنیادیں فراہم کرتی ہیں۔ اس شمارے کا پانچواں مقالہ  ایک مترقی انسانی سماج کی عالمی اساس یعنی عدل و انصاف کے قیام میں عدالتی نظام میں "دعویٰ (CLAIM) سے مربوط  شرعی اور وضعی قوانین کا تقابلی جائزہ " پیش کرتا ہے۔ یہ مقالہ اس مقولہ میں مملکت خدادادِ پاکستان میں وضعی قوانین میں احتمالی جھول کو برملا اور برطرف کرنے کی غرض وغایت سے لکھا گیا ہے۔ مجلہ نور معرفت کے اس تازہ شمارے کا چھٹا مقالہ " موقّت شادی: صحیحین اور فریقین کی نظر میں" کے عنوان سے مزین  ہے جو اہل فقاہت و اجتہاد کی خاص توجہ کا طالب اور معاشرے سے جنسی بے راہ روی کی روک تھام کی عملی شرعی راہیں تجویز کرتا ہے۔

    ساتواں مقالہ اپنے ضمن میں " اسلامی تعلیم و تربیت کی روشیں" بیان کرنے کا عہدیدار ہے۔ اس مقالے کا ادّعا یہ ہے کہ اسلام میں تعلیم و تربیت کی متعدد اور متنوع روشیں موجود ہیں جو متعدد اور متنوع CONDITIONS میں قابل اجراء ہیں۔ ان روشوں کو اپنا کر تعلیم و تربیت کا کام انتہائی موثر طریقے سے انجام دیا جا سکتا ہے۔ " دہشت گردی، اسلام اور اردوافسانہ " کے عنوان پر مجلہ نور معرفت کے اس شمارے کا آٹھواں مقالہ افسانوی ادبیات کے لب ولہجہ دنیا میں دہشت گردی کے واقعات کے پسِ پردہ عوامل کی تلاش کے باب میں ایک جاندار کاوش ہے۔  RELIGIOUS DISCURSIVE PRACTICES IN THE ESL UNDERGRADUATE CLASSROOM کے عنوان سے اس شمارے کے آخری مقالے کا تعلق بھی EDUCATION سے ہے۔ یہ مقالہ جس میں اسلام آباد کی ان تمام جامعات کو بطور سروے سائیٹ منتخب کیا گیا ہے جہاں انڈر گریجویٹ سطح پر  انگریزی کا چار سالہ نصاب پڑھایا جاتا ہے، اس پیغام کا حامل ہے کہ اکثر ESLکلاس رومز میں اساتذہ کی طرف سے دینی اور مسلکی آئیڈیالوجی کی ترویج جاری رہتی ہے جو کہ مقالے کے مطابق بہترین تعلیمی نتائج کے حصول کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ لہذا تعلیم کے مقتدر اداروں کےلئے ضروری ہے کہ وہ اس سلسلے میں اساتذہ کو مناسب ہدایات اور رہنمائی فراہم کریں۔ہمیں امید ہے کہ ان متنوع مقالات کی اشاعت، مجلہ نور معرفت کے زیرنظر شمارے کو قارئین کےلئے انتہائی مفید شمارے کے طور پر پیش کرے گی۔ ان شاء اللہ!

    ٭٭٭٭٭

  • Quarterly Social & Religious Research Journal Noor-e-Marfat
    Vol 11 No 2 (2020)

    ایک مسلم سماج ہونے کے ناطے اسلامی جمہوریہ پاکستان کا سیاسی نظام ہماری زندگیوں پر براہ راست اثرانداز ہوتا ہے۔ جب تک مسلم ممالک، منجملہ مملکت خدادا پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بنیادی خدّوخال،دین اسلام کے دیےگئے قالب کے اندر وضع نہیں کیے جاتے، ہمیشہ عالمی روابط کے دروازے سے عالمِ اسلام پر تہذیبی یلغار ہوتی رہے گی۔ بنابریں، تحقیقی معیارات پر یہ طے کرنا بہت ضروری ہے کہ ایک اسلامی مملکت کی خارجہ پالیسی کے بنیادی اصول کیا ہیں؟ اس حوالے سے خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی ﷺ کے وہ وثیقہ جات جو آپ نے دنیا کے مختلف حکمرانوں کو لکھوائے، ایک انتہائی اہم SOURCE ہیں۔ مجلہ نور معرفت کے زیرنظر شمارے میں ایک تحقیقی مقالہ "نبی اکرمﷺ اور خلفائے راشدینؓ کےسیاسی وثیقہ جات پر کتب۔ایک تحقیقی جائزہ" کے عنوان سے شامل ہے۔ یقینا یہ مقالہ ریاست مدینہ کی خارجہ پالیسی کے استخراج میں بہترین معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ اس شمارے کا ایک انگریزی مقالہ بھی HOW THE PRINCIPLE OF MASLAHA CAN GUIDE THE FOREIGN POLICY OF A MUSLIM STATE کے عنوان سے عالم اسلام اور بالخصوص مملکت خداداد پاکستان کی خارجہ پالیسی کے تدوین کے بنیادی اصولوں کی بحث پر مشتمل ہے۔ مجلہ نور معرفت کے تازہ ترین شمارے میں " مغربی تہذیب کے رجحانات واثرات" کے عنوان سے ایک اردو مقالہ اور  US HEGEMONIC INTERESTS AND THE STRATEGIC DILEMMA IN IRAQ کے عنوان سے ایک انگریزی مقالہ شامل ہیں۔ یہ مقالات عالم اسلام کے خلاف استعمار کی ریشہ دوانیوں اور غلبے کی منحوس توقعات سے پردہ کشائی کرتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ان مقالات کی اشاعت ہمارے قارئین کو  مسلم ممالک اور اسلامی تہذیب کی حفاظت کا بھرپور احساس دلائے گی۔

    ہمارا عقیدہ ہے کہ دَورِ حاضر کی تہذیبوں کی جنگ میں عالم اسلام کو defensive کی بجائے Offensive  پوزیشن اپنانے کی ضرورت ہے جس کا  ہتھیار تیروتبر نہیں، بلکہ ادیان  ومذاہب کے درمیان تعمیری مکالمے کا فروغ ہے۔ بین الادیان و المذاہب مکالمے کا فروغ، انسانی وحدت اور مسالمت کی طرف تنہا راستہ ہے جو اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اس مکالمہ کے بنیادی اصول مرتب کیے جائیں جن کی پیروی ضروری ہو۔ مجلہ نور معرفت کے زیرنظر شمارے کا تیسرا مقالہ "برصغیر کے ماثور تفسیری ادب کے تناظر میں مکالمہ بین المذاہب کے اصول" کے عنوان سے ہماری مکالماتی ادبیات کو بہتر سے بہتر اور شگفتہ سے شگفتہ تر بنانے میں معاون ثابت ہو گا۔اس شمارے  کا چوتھا مقالہ " عصر حاضر کی اسلامی تحریکیں،مسلم امہ اور عالمی منظر نامہ" کے عنوان سے اسلامی دعوت اور ہدایت وارشاد کے بنیادی اسلامی اصول کی روشنی میں عالم اسلام میں اٹھنے والی مختلف اسلامی تحریکوں کا تعارف پیش کرنے کے ساتھ ساتھ، ان کے نکات قوّت وضعف سے پردہ کشائی کرتا ہے۔ اس شمارے کے اگلے دو مقالات کا تعلق سماجی فلاح وبہبود سے ہے۔ " خدمت خلق، فلاح و نجات کا وسیلہ" کے عنوان سے مزین مقالہ میں اقتصادی استحصال کے جبر میں پسی انسانیت کے دکھوں کے مداوا کی عملی رہنمائی اور اخروی نجات اور فلاح کے حصول کی راہیں دکھائی گئی ہیں۔ اور "سیرت طیبہﷺ کی روشنی میں  انسداد غربت و افلاس" کے عنوان سے فقروفاقے کا مقابلہ کرنے کی عملی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔"مکلی کا قبرستان،  ایک اہم ثقافتی، ادبی ورثہ" کے عنوان سے  مجلہ نور معرفت کے اس شمارے کا آخری مقالہ بھی اپنی اہمیت و افادیت کے لحاظ سے دیگر مقالات سے کم نہیں۔ یہ مقالہ اپنی ثقافتی اور ادبی میراث کی اہمیت کا احساس دلانے کے ساتھ، اپنی حفاظت کرنے کی دُہائی دیتا ہے۔ہمیں امید ہے کہ ہمارا یہ شمارہ، ہماری ملکی سالمیت اور تہذیبی ارتقاء کی راہیں ہموار کرنے میں معاون و مددگار ثابت ہو گا۔ان شاء اللہ!

    ٭٭٭٭٭

  • Quarterly Social & Religious Research Journal Noor-e-Marfat
    Vol 11 No 1 (2020)

    اسلام کا یہ دعویٰ ہے کہ یہی وہ دین ہے جو انسانیت کی صراطِ مستقیم ہے۔ اس کے برعکس، لبرل ازم اور دینی پلورل ازم کسی ایک دین کے بحیثیت صراط مستقیم ہونے کے انکار کا نام ہے۔ مجلہ نور معرفت کے موجودہ شمارے کے پہلے دو مقالات اس فکری یلغار کے مقابلے میں دینِ مبین اسلام کا دفاع ہیں۔ پہلے مقالے میں "دینی پلورل ازم کے نظریہ کی حیثیت" کے عنوان سے اہل فکر ونظر کےلئے دَورِ حاضر کی الحادی سوچ کی بعض من گھڑت دلیلوں سے پردہ کشائی کرتے ہوئے حقیقت نمائی کی گئی ہے۔  اور دوسرے مقالے میں"قرآن میں احترامِ انسانیت کا تصوّر" کے عنوان کے تحت یہ ثابت کیا گیا ہے کہ خداوند تعالیٰ نے انسان کو جو عظیم مقام و منزلت عطا فرمایا ہےاس کا ہر صورت لحاظ رکھا جائے اور انسانیت کی تکریم یہ ہے کہ اسے اُس کے فطری اور حقیقی مقام سے نہ گرایا جائے۔ اس شمارے کا تیسرا مقالہ مغربی اور اسلامی نقطہ نظر سے اقتدارِ اعلٰی کا تصوّر اجاگر کرتا ہے اس مقالہ کے مطابق  جب کسی ملک و ملّت کے سیاسی نظام کی اساس اسلام کے پیش کردہ اقتدارِ اعلیٰ کے تصوّر پر رکھی گئی تو معاشرے میں سماجی عدل و انصاف اور انسانی برابری و مساوات حاکم ہوئی۔اس شمارے کا چوتھا مقالہ علم کے باب میں بعض مروّجہ طبقہ بندیوں اور تقسیمات پر خطِ بطلان کھینچتا ہے۔ "علم کی ماہیت اور تقسیم بندی" کے عنوان سے تحریر شدہ اس مقالے میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ  علم کی شرافت کا معیار، خود علم کا موضوع و مسائل نہیں، بلکہ اس کی غرض وغایت ہے ۔ مجلہ نور معرفت کا پانچواں مقالہ "برصغیر میں اصول حدیث کے چند اہم مصنفین وتصنیفات" کے موضوع پر ہے۔ یہ مقالہ حدیث پر کتاب شناسی کا ایک اہم ذریعہ ہے جو ایک عام قاری کو اصول حدیث پر برصغیر میں لکھی جانے والی کتب سے آشنا اور ایک محقق کو کم ترین وقت میں بہترین منابع تک رسائی کا موقعہ فراہم کرتا ہے۔ اس شمارے کا چھٹا مقالہ فلسفۂ اخلاق کی انتہائی اہم اور کلیدی بحث پر مشتمل ہے۔ اس مقالہ کے مطابق اخلاقیات منہائے دین، ایک ایسا فکری نظام ہے جس کے اجراء کی کوئی ضمانت فراہم نہیں کی جا سکتی۔ اس شمارے کا آخری مقالہ QISSAT AL-GHARANIQ IN GLIMPSES OF HISTORY کے عنوان سے مزین ہے۔ یہ مقالہ  پیغمبر اسلامﷺ کے دامنِ نبوّت کو ہر قسم کی لغزش و خطا سے آلودہ ہونے سے منزّہ  قرار دیتا ہے۔ہمیں امید ہے کہ یہ شمارہ دینی، سماجی اور انسانی علوم کے حلقوں میں ایک تحقیقی سند کی  حیثیت حاصل کرےگا اور اس کے مطالعہ سے قارئین بھرپوراستفادہ کریں گے۔ ان شاء اللہ!

    ٭٭٭٭٭٭

  • Quarterly Social & Religious Research Journal Noor-e-Marfat
    Vol 10 No 4 (2019)

    قرآن و سنّت،تکوین و تشریع یعنی خدا کی کائنات اور شریعت  کا بیان ہیں۔ لیکن جہاں خدا کی کائنات میں ہر آن نئی نئی جہات سامنے آ رہی ہیں، وہاں انسانی افعال اور تعاملات میں بھی آئے دن پیچیدگیاں اور نئی جہات سامنے آ رہی ہیں جو سماج کی منیجمنٹ میں انسان سے ہر دن نئی قانون سازی کا مطالبہ کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی کسی ملک و ملت کی مقننہ کی چھٹی نہیں ہوتی۔ اسلام میں قرآن و سنّت کو قانونگذار کی حیثیت حاصل ہے۔ بنابریں، کائنات کے متنوع حقائق کو کشف کرنے اور انسانی سماج کے متنوع مسائل کا حل اور حکم بیان کرنے کےلئے قرآن و سنّت پر تحقیق کا کام کبھی مکمل نہیں ہوگا ۔اِس پسِ منظر میں ہر تحقیقی ادارے اور رسالے کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے محققین کے کام کو ترجیح دے جن کی  تحریر میں قرآن و سنّت کی روشنی میں نئے حقائق اور جدید احکام بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہو۔ مجلہ نور معرفت کے زیر نظر شمارہ میں قرآن کریم کی ایک قدیم تفسیر "التبیان فی تفسیر القرآن" پر نئے انداز میں نگاہ ڈالی گئی ہے اور آنے والے مفسرین کےلیے ایک قدیم تفسیر کی دقیق تفسیری روش بیان کی گئی ہیں تاکہ وہ نئے دور کے تقاضے پورا کرتے وقت، قدماء کی روش کے برتر اصولوں  کی پیروی کر سکیں۔ اسی طرح اس شمارہ میں ایک مستقل مقالہ کے ضمن میں"رسول اکرمﷺ کی سیاسی سیرت کے رہنما اصول" اجاگر کیے گئے ہیں۔

    دین کی درست ترجمانی اور دینداری کی منطقی بنیادوں کو برہانی اسلوب میں بیان کرنا آج کے دَور کا دینداری کا سب سے بڑا تقاضا ہے۔ اِس موضوع پر بھی مجلہ نور معرفت کے اس شمارہ میں "دین و ایمان-عبادت و عرفان" کے عنوان سے ایک مقالہ شامل ہے جو اپنے قاری کو موضوع کی نئی اور عمیق جہات سے متعارف کرواتا ہے۔ اس شمارہ میں ایک مقالہ " امام شناسی، علم تاریخ اور علم کلام کی روشنی میں" کے عنوان سے بھی شامل ہے جو اپنے دامن میں امامت کےموضوع پر ابتکاری بحثیں سموئے ہوئے ہے۔ نور معرفت کے زیر نظر شمارے میں ایک اور مقالہ"انسانیت کا آخری مسیحا" کے عنوان سے شامل ہے۔ یہ مقالہ انسانیت کے مستقبل کے حوالے سے مختلف ادیان کی تشویش اور تدبیر کی ترجمانی کرتے ہوئے بنی نوعِ انسان کو ایک ایسے روشن مستقبل کی نوید سناتا ہے۔ اس شمارہ میں "مولانا رومؒ اور اسلام کی تعبیرِ نو" کے عنوان کے تحت ایک اور مقالہ میں امتّوں کے عروج و زوال میں اربابِ علم و دانش کے کردار کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ اس شمارے کا آخری مقالہ کتاب شناسی  سے مربوط ہے جس میں " الفصول المهمة فى معرفة الائمة " جیسی ایک انتہائی اہم کتاب کا دقیق تعارف پیش کیا گیا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ سہ ماہی علمی، تحقیقی مجلہ نور معرفت کا یہ شمارہ، تکراری ادبیات کی جگہ ابتکاری  لڑیچر کے باب میں ایک اہم اضافہ شمار ہو گا۔ان شاء اللہ!

    ٭٭٭٭٭٭
  • Quarterly Social & Religious Research Journal Noor-e-Marfat
    Vol 10 No 3 (2019)

    تعلیم و تربیت کا انسان سازی کے ساتھ رابطہ تسلیم شدہ ہے ۔ مجلہ نور معرفت کے موجودہ شمارے میں تعلیم و تربیت کے موضوع سے مربوط چھپنے والے انتہائی عمیق اور فنی مقالات کی وہ تعداد ہے جسے دیکھ کر اس شمارے کو تعلیم و تربیت کا خصوصی شمارہ کہنا بے جا نہ ہو گا۔ اس شمارہ میں "تربیت، لغوی مفہوم اور خصوصیات" کے عنوان سے ایک وزنی مقالہ شامل ہے۔  دوسرا مقالہ "معاشرتی ترقی میں ادب کا کردار" کے عنوان سے شامل ہے جو بذات خود لسانیات کا موضوع ہے جو اپنی جگہ تعلیم و تربیت کا ایک اہم شعبہ ہے۔ تعلیم و تربیت کے موضوع سے مربوط تیسرے مقالے میں "اقوام متحدہ کا 2030 ترقیاتی ایجنڈا، ایک تنقیدی جائزہ" کے عنوان سے پاکستان میں شعبۂ تعلیم و تربیت کے ارباب قدرت و اختیار کو "ہوشیار باش!" کہہ کر راہزنوں سے ہوشیار  رہنے کی چارہ جوئی کی گئی ہے۔موضوع سے مربوط چوتھے مقالے میں "تعلیم و تربیت کے بنیادی اصول" کے عنوان سے تعلیم و تربیت کی اسلامی Foundations  کو اجاگرکیا گیا ہے۔اسی موضوع سے مربوط  پانچویں مقالے میں "تعلیم و تربیت میں جسمانی سزا" کے عنوان کے تحت ایک اہم مسئلہ پر قدرے مختلف انداز سے رائے زنی کی گئی ہے۔

    ان مقالات کے علاوہ، اس شمارہ کے دامن میں ایک تحقیقی مقالہ "الہی صفات کی معنی شناسی" کے عنوان سے مزین ہے جس میں علم الکلام کا ایک اہم موضوع زیربحث لایا گیا ہے۔ اس شمارے میں "انسان، معیشت اور ماحولیات" کے عنوان سے ایک اور مقالہ جہاں کتاب شناسی کے باب میں ایک منفرد اندازِ بیان پر مشتمل ہے، وہاں انسان کے خلافتِ الہٰیہ کے مقام پر فائز ہونےکی حدود و قیود اور شرائط کی ترجمانی کے علاوہ  معیشت اور ماحولیات کے حوالے سے قاری  کو اپنا اقتصادی قرض اتارنے اور اپنا ماحولیاتی فرض ادا کرنے کےلئے تگ و دَو پر اکساتا ہے۔  نور معرفت کے زیر نظر شمارے کا ایک اور مقالہ "سائنس اور دین کے درمیان رابطہ" کے عنوان کے تحت اس سوال کا جواب فراہم کرتا ہے کہ سائنس اور دین کے درمیان پائے جانے والے رابطہ کی ماہیت کیا ہے۔ اس شمارے میں "تکریم فاطمہ سلام اللہ علیہا" کے عنوان سے ایک اور مقالہ خواتینِ جنّت کی سیدہ حضرت فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کے فضائل و کرامات پر مشتمل ہے جو رسولِ خداﷺ کی امّت کو اجرِ رسالت کی  ادائیگی کی تاکید کرنے کے ساتھ ساتھ اولادِ رسولﷺ کی تکریم و تعظیم کے لزوم پر ایک جاندار تحریر ہے۔ ہمیں امید ہے کہ سہ ماہی علمی، تحقیقی مجلہ نور معرفت کا یہ شمارے، تخلیقی تصنیفات کے باب میں ایک اہم اضافہ اور قارئین کرام کی علمی تشنگی دور کرنے کےلئے مئے ساقی شمار ہو گا۔ان شاء اللہ!

    ٭٭٭٭٭